تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 2

تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۚ﴿۲﴾
اس بے حد رحم والے، نہایت مہربان کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔ En
(یہ کتاب خدائے) رحمٰن ورحیم (کی طرف) سے اُتری ہے
En
اتاری ہوئی ہے بڑے مہربان بہت رحم والے کی طرف سے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنْزِیْلٌ اتارا گیا ہے یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ رحمان و رحیم کی طرف سے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عبادَه أنَّ هذا الكتاب الجليل والقرآن الجميل {تنزيلٌ}: صادر {من الرحمنِ الرحيم}: الذي وسعتْ رحمتُه كلَّ شيء، الذي من أعظم رحمته وأجلِّها إنزال هذا الكتاب، الذي حصل به من العلم والهدى والنور والشفاء والرحمة والخير الكثير ما هو من أجلِّ نعمِهِ على العباد، وهو الطريق للسعادة في الدارين.