اور جو ثمود تھے تو ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا مگر انھوںنے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنے کو پسند کیا تو انھیںذلیل کرنے والے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا، اس کی وجہ سے جو وہ کماتے تھے۔
En
اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاَمَّاثَمُوْدُ ﴾ اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لیے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انھیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی۔ اس لیے ثمود کے بارے میں فرمایا: ﴿وَاَمَّاثَمُوْدُفَهَدَیْنٰهُمْ ﴾”جو ثمود تھے، ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا۔“ یہاں ہدایت سے مراد ہدایت بیان ہے۔ ہرچندکہ ہلاکت کا شکار ہونے والی تمام امتوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی اور راہ راست ان کے سامنے واضح کر دی گئی، مگر اللہ تعالیٰ نے ثمود کے لیے ہدایت کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ان کو بہت بڑا معجزہ عطا کیا گیا تھا، اس معجزے کو ان کے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت اور بیان کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ مگر انھوں نے اپنے شر اور ظلم کی وجہ سے ہدایت یعنی علم و ایمان کی بجائے، اندھے پن یعنی کفر اور گمراہی کو پسند کیاتو جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے، اس کی وجہ سے انھیں عذاب نے پکڑ لیا اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأما ثمودُ}: وهم القبيلة المعروفة، الذين سكنوا الحجرَ وحواليه، الذين أرسل الله إليهم صالحاً عليه السلام يدعوهم إلى توحيدِ ربِّهم وينهاهم عن الشرك، وآتاهم الله الناقةَ آيةً عظيمةً لها شِربٌ ولهم شِربُ يوم معلوم، يشربون لبنَها يوماً ويشربون من الماء يوماً، وليسوا ينفقون عليها، بل تأكل من أرض الله، ولهذا قال هنا: {وأمَّا ثمودُ فهَدَيْناهم}؛ أي: هداية بيان، وإنما نصَّ عليهم، وإن كان جميع الأمم المهلكة قد قامتْ عليهم الحجَّةُ وحصل لهم البيانُ؛ لأن آية ثمودَ آيةٌ باهرةٌ قد رآها صغيرهم وكبيرهم وذكرهم وأنثاهم، وكانت آيةً مبصرةً، فلهذا خصَّهم بزيادة البيان والهدى، ولكنَّهم من ظلمهم وشرِّهم استحبُّوا {العمى} الذي هو الكفر والضلال {على الهدى} الذي هو العلم والإيمان، فأخذهم {العذاب} بما كانوا يكسِبون، لا ظُلماً من الله لهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔