پھر جو عاد تھے وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے کہا ہم سے قوت میں کون زیادہ سخت ہے؟ اور کیا انھوںنے نہیںدیکھا کہ وہ اللہ جس نے انھیں پیدا کیا، قوت میں ان سے کہیں زیادہ سخت ہے اور وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
En
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
اب عاد نے تو بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وه ان سے (بہت ہی) زیاده زور آور ہے، وه (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرمایا: ﴿فَاَمَّاعَادٌ ﴾ قوم عاد اپنے کفر، آیات الٰہی اور انبیاء و مرسلین کی تکذیب کے ساتھ ساتھ، زمین پر تکبر کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے اردگرد بندگان الٰہی پر قہر اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کی قوت نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ﴿وَقَالُوْامَنْاَشَدُّمِنَّاقُوَّ٘ةً ﴾”اور وہ کہتے تھے: بھلا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا جواب دیا جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿اَوَلَمْیَرَوْااَنَّاللّٰهَالَّذِیْخَلَقَهُمْهُوَاَشَدُّمِنْهُمْقُوَّةً ﴾”کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا، وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔“ اگر اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق نہ کرتا تو وہ کبھی وجود میں نہ آسکتے، اگر وہ اپنے اس حال پر صحیح طریقے سے غور کرتے تو کبھی اپنی طاقت کے فریب میں مبتلا نہ ہوتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأمَّا عادٌ؛ فكانوا مع كفرهم بالله وجحدهم بآيات الله وكفرهم برسله مستكبرين {في الأرض} قاهرين لمن حولَهم من العباد ظالمين لهم قد أعجبتهم قُوَّتُهم، {وقالوا مَنْ أشدُّ منا قُوَّةً}: قال تعالى ردًّا عليهم بما يعرفه كلُّ أحدٍ: {أولم يَرَوا أنَّ الله الذي خلقهم هو أشدُّ منهم قوةً}: فلولا خلقُه إيَّاهم؛ لم يوجدوا؛ فلو نظروا إلى هذه الحال نظراً صحيحاً؛ لم يغترُّوا بقوَّتِهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔