تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 11

ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَ لِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ ﴿۱۱﴾
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو ا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔ En
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں
En
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ یعنی زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسْتَوٰۤى قصد کیا ﴿اِلَى السَّمَآءِ آسمان کی تخلیق کا ﴿وَهِیَ دُخَانٌ اور وہ دھواں تھا۔ جو پانی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ ﴿فَقَالَ لَهَا پس آسمان سے کہا چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لیے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا: ﴿وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا اور زمین سے کہ دونوں آؤ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرہاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا ﴿قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىِٕعِیْنَ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کر سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم}: بعد أن خَلَقَ الأرض {استوى}؛ أي: قصد {إلى}: خلق {السماء وهي دخانٌ}: قد ثار على وجه الماء، {فقال لها}: ولمَّا كان هذا التخصيصُ يوهِمُ الاختصاص؛ عَطَفَ عليه بقوله: {وللأرض ائْتِيا طوعاً أو كَرْهاً}؛ أي: انقادا لأمري طائعتين أو مُكْرَهَتَيْن؛ فلا بدَّ من نفوذه، {قالتا أتَيْنا طائعينَ}؛ أي: ليس لنا إرادةٌ تخالف إرادتك.