تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 81

وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ ٭ۖ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنۡکِرُوۡنَ ﴿۸۱﴾
اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پھر تم اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے ۔ En
اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم خدا کی کن کن نشانیوں کو نہ مانو گے
En
اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا جارہا ہے، پس تم اللہ کی کن کن نشانیوں کے منکر بنتے رہو گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ جو اس کی وحدانیت اور اس کے اسماء و صفات پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو آفاق و انفس میں اپنی آیات کا مشاہدہ کرایا، بڑی بڑی نعمتوں سے بہرہ مند کیا اور ان نعمتوں کو شمار کیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں، اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں۔
﴿فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْؔكِرُوْنَ پھر تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے یعنی اللہ تعالیٰ کی کون کون سی آیات ہیں جن کا تم اعتراف نہیں کرتے؟ تمھارے نزدیک بھی یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تمام آیات اور تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں، تب انکار کی کوئی گنجائش اور روگردانی کا کوئی موقع باقی نہیں۔ بلکہ یہ آیات اور نعمتیں عقل مندوں پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے میں اپنی پوری کوشش صرف کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويريكم آياتِهِ}: الدالَّة على وحدانيَّته وأسمائه وصفاته، وهذا من أكبر نعمه؛ حيث أشهد عباده آياتِهِ النفسيَّة وآياته الأفقيَّة ونعمَه الباهرة وعدَّدها عليهم ليعرِفوه ويشكُروه ويذكُروه. {فأيَّ آيات الله تُنْكِرونَ}؛ أي: أيُّ آية من آياته لا تعترفون بها؟! فإنَّكم قد تقرَّر عندكم أن جميع الآيات والنعم منه تعالى، فلم يبقَ للإنكار محلٌّ، ولا للإعراض عنها موضعٌ، بل أوجبت لذوي الألباب بَذْلَ الجهد واستفراغَ الوسع للاجتهاد في طاعته والتبتُّل في خدمته والانقطاع إليه.