تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یٰقَوْمِاِنَّمَاهٰؔذِهِالْحَیٰوةُالدُّنْیَامَتَاعٌ ﴾”اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔“ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّالْاٰخِرَةَهِیَدَارُالْقَرَارِ ﴾”اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔“ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يا قوم إنَّما هذه الحياةُ الدنيا متاعٌ}: يُتَمَتَّع بها ويُتَنَعَّم قليلاً، ثم تنقطع وتضمحلُّ؛ فلا تغرَّنَّكم وتخدعنَّكم عما خلقتم له. {وإن الآخرةَ هي دارُ القرارِ}: التي هي محلُّ الإقامة ومنزل السكون والاستقرار؛ فينبغي لكم أن تؤثروها وتعملوا لها عملاً يسعِدُكم فيها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔