تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 39

یٰقَوۡمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا مَتَاعٌ ۫ وَّ اِنَّ الۡاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴿۳۹﴾
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے۔ En
بھائیو یہ دنیا کی زندگی (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے
En
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يا قوم إنَّما هذه الحياةُ الدنيا متاعٌ}: يُتَمَتَّع بها ويُتَنَعَّم قليلاً، ثم تنقطع وتضمحلُّ؛ فلا تغرَّنَّكم وتخدعنَّكم عما خلقتم له. {وإن الآخرةَ هي دارُ القرارِ}: التي هي محلُّ الإقامة ومنزل السكون والاستقرار؛ فينبغي لكم أن تؤثروها وتعملوا لها عملاً يسعِدُكم فيها.