تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 19

یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ En
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)
En
وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْیُنِ وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ یہ وہ نظر ہے جسے بندہ اپنے ہم نشین اور ساتھی سے چھپاتا ہے اور یہ چوری کی نظر ہے۔ ﴿وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ اور ان مخفی باتوں کو بھی جو سینوں نے چھپا رکھی ہیں۔ یعنی وہ امور جنھیں بندہ دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا اللہ تعالیٰ سینوں میں چھپے ہوئے ان بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ ظاہری امور سے آگاہ ہونا تو زیادہ اولیٰ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يعلم خائنةَ الأعين}: وهو النظرُ الذي يُخفيه العبد من جليسِهِ ومقارنِهِ، وهو نظر المسارقة، {وما تُخفي الصدورُ}: مما لم يبيِّنه العبد لغيره؛ فالله تعالى يعلم ذلك الخفيَّ؛ فغيره من الأمور الظاهرة من باب أولى وأحرى.