تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 17

اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾
آج ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا، آج کوئی ظلم نہیں۔ بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ En
آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے
En
آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی قسم کا) ﻇلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُ٘لُّ نَفْ٘سٍۭؔ بِمَا كَسَبَتْ آج ہر نفس کو، جو اس نے کمایا، اس کی جزا دی جائے گی۔ یعنی اس نے دنیا کے اندر، تھوڑی یا بہت، جو بھی نیکی اور بدی کا اکتساب کیا ہے، آج اس کی جزا دی جائے گی۔ ﴿لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا آج کسی نفس پر، برائیوں میں اضافہ کر کے یا اس کی نیکیوں میں کمی کر کے، ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ بلاشبہ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ یعنی اس دن کو دور نہ سمجھو یہ دن ضرور آنے والا ہے اور ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے۔ نیز وہ قیامت کے روز اپنے بندوں کا بہت جلد حساب لے لے گا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ قدرت کاملہ کا مالک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{اليومَ تُجزى كلُّ نفس بما كَسَبَتْ}: في الدنيا من خيرٍ وشرٍّ قليل وكثير. {لا ظُلْمَ اليوم}: على أحد بزيادة في سيئاته أو نقص من حسناته. {إنَّ الله سريعُ الحساب}؛ أي: لا تستبطئوا ذلك اليوم؛ فإنَّه آتٍ، وكلُّ آتٍ قريب، وهو أيضاً سريع المحاسبة لعباده يوم القيامةِ لإحاطة علمِهِ وكمال قدرتِهِ.