تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 85

مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفۡلٌ مِّنۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا ﴿۸۵﴾
جو کوئی سفارش کرے گا، اچھی سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو کوئی سفارش کرے گا، بری سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہمیشہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ En
جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
En
جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا اور جو برائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لئے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہاں شفاعت سے مراد کسی معاملے میں معاونت ہے۔ جو کوئی کسی دوسرے کی بھلائی کے کسی کام میں سفارش کرتا ہے اور اس کام میں اس کی مدد کرتا ہے۔ مثلاً مظلوموں کے بارے میں ظالم کے پاس سفارش کرنا اسے اس کی کوشش اور عمل کے مطابق اس نیک سفارش سے حصہ نصیب ہو گا۔ اور اصل کام کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی اور جو کوئی برائی کے کسی کام میں کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کے تعاون اور مدد کے مطابق عذاب میں سے اس کو حصہ ملے گا۔ اس آیت کریمہ میں نیکی اور تقویٰ میں تعاون کے لیے بہت بڑی ترغیب ہے۔ اسی طرح گناہ اور زیادتی کے کاموں میں معاونت پر زجر و توبیخ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے متحقق کیا ہے ﴿ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ مُّؔقِیْتًا اللہ تعالیٰ ہر چیز کا گواہ اور حفاظت کرنے والا ہے۔ یعنی وہ ان اعمال کا حساب لے گا اور ہر شخص کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

المراد بالشفاعة هنا المعاونةُ على أمرٍ من الأمور؛ فمنْ شَفَعَ غيرَهُ وقام معه على أمرٍ من أمور الخير ومنه الشفاعة للمظلومين لمن ظلمهم؛ كان له نصيبٌ من شفاعته بحسب سعيه وعمله ونفعه، ولا ينقُصُ من أجر الأصيل أو المباشر شيءٌ، ومن عاون غيره على أمر من الشرِّ؛ كان عليه كِفْلٌ من الإثم بحسب ما قام به وعاون عليه. ففي هذا الحثُّ العظيم على التعاون على البر والتقوى، والزجر العظيم عن التعاون على الإثم والعدوان. وقرَّر ذلك بقوله: {وكان الله على كل شيء مُقيتاً}؛ أي: شاهداً حفيظاً حسيباً على هذه الأعمال، فيجازي كلاًّ ما يستحقُّه.