تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 71

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِیۡعًا ﴿۷۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے بچائو کا سامان پکڑو، پھر دستوں کی صورت میں نکلو، یا اکٹھے ہو کر نکلو۔ En
مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو
En
اے مسلمانو! اپنے بچاؤ کا سامان لے لو پھر گروه گروه بن کر کوچ کرو یا سب کے سب اکٹھے ہو کر نکل کھڑے ہو! En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جا سکے۔ اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ جماعت جماعت ہوکر نکلا کرو۔ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لیے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لیے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں ﴿ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا یا تمام کے تمام جہاد کے لیے نکلو۔ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُ٘وَّ٘ةٍ (الانفال: 8؍60) جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلہ کے لیے فوجی قوت تیار کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى عباده المؤمنين بأخذ حِذْرِهِم من أعدائهم الكافرين، وهذا يَشْمَلُ الأخذ بجميع الأسباب التي بها يُستعان على قتالهم ويُسْتَدْفَع مَكْرُهم وقوَّتُهم؛ من استعمال الحصون والخنادق، وتعلُّم الرمي والرُّكوب، وتعلُّم الصناعات التي تُعينُ على ذلك، وما به يُعْرَفُ مداخِلُهم ومخارِجُهم ومكرُهم، والنفير في سبيل الله، ولهذا قال: {فانفِروا ثُباتٍ}؛ أي: متفرِّقين؛ بأن تنفر سريَّةٌ أو جيشٌ ويقيم غيرهم، {أوِ انفِروا جميعاً}، وكلُّ هذا تَبَعٌ للمصلحة والنِّكاية والراحة للمسلمين في دينهم. وهذه الآية نظيرُ قوله تعالى: {وأعِدُّوا لهم ما استطعتُم من قوَّةٍ}.