تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 69

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾
اور جو اللہ اور رسول کی فرماںبرداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔ En
اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے
En
اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔
﴿ مِّنَ النَّبِیّٖنَ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انھیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انھوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ﴿ وَالصِّدِّؔیْقِیْنَ۠ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انھوں نے حق کو جان لیا اور یقین کامل کے ساتھ اس کی تصدیق کی اور پھر اپنے قول و فعل، حال اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے کر اس حق کو قائم کیا ﴿ وَالشُّهَدَآءِ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور قتل کر دیے گئے ﴿ وَالصّٰؔلِحِیْنَ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر و باطن درست ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے اعمال درست ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کی صحبت سے بہرہ ور ہو گا ﴿ وَحَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِیْقًا ان مذکورہ اصحاب فضیلت کے ساتھ نعمت والے باغوں میں اکٹھے ہونا اور اللہ رب العالمین کے جوار میں ان اصحاب کی قربت کا انس، ایک اچھی رفاقت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كلُّ من أطاع الله ورسولَه على حَسَبِ حالِهِ وقَدْرِ الواجب عليه من ذكرٍ وأنثى وصغيرٍ وكبيرٍ؛ {فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم}؛ أي: النعمة العظيمة التي تقتضي الكمال والفلاح والسعادة، {من النبيِّين}: الذين فضَّلهم الله بوحيهِ واختصَّهم بتفضيلهم بإرسالهم إلى الخَلْق ودعوتهم إلى الله تعالى. {والصِّدِّيقين}: وهم الذين كَمُلَ تصديقُهم بما جاءت به الرُّسل، فعلموا الحقَّ وصدَّقوه بيقينِهِم وبالقيام به قولاً وعملاً وحالاً ودعوةً إلى الله. {والشُّهداء}: الذين قاتلوا في سبيل الله لإعلاء كلمةِ الله، فقُتِلوا. {والصالحين}: الذين صَلُحَ ظاهرُهم وباطنُهم، فصَلَحَتْ أعمالُهم؛ فكلُّ من أطاع الله تعالى كان مع هؤلاء وفي صحبتهم. {وحَسُنَ أولئك رفيقاً}: بالاجتماع بهم في جنَّات النعيم والأنس بقربِهِم في جوارِ ربِّ العالمين.