تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 67

وَّ اِذًا لَّاٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۶۷﴾
اور اس وقت ہم یقینا انھیں اپنے پاس سے بہت بڑا اجر دیتے۔ En
اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے
En
اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ﺛواب دیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ثالث: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّـاۤ٘ اَجْرًا عَظِیْمًا اور تب تو انھیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔ یعنی دنیا و آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزر ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

الثالث: قوله: {وإذاً لآتيناهُم من لَدُنَّا أجراً عظيماً}؛ أي: في العاجل والآجل، الذي يكون للروح والقلب والبدن، ومن النعيم المقيم ممَّا لا عينٌ رأت ولا أُذُنٌ سمعتْ ولا خَطَرَ على قلب بشر.