پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔
En
تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں اس کے رسول کو حَکَم تسلیم نہ کریں۔ یعنی ہر اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور فیصل تسلیم کریں جس میں اجماعی مسائل کے برعکس ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف واقع ہو۔ کیونکہ اجماعی مسائل کتاب و سنت کی دلیل پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر اس تحکیم کو تسلیم کرنا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ شرط بھی عائد کی کہ آپ کو حکم تسلیم کرنا محض اغماض کے پہلو سے نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں کسی قسم کی تنگی اور حرج نہ ہو۔ اور اس تحکیم کو ہی کافی قرار نہیں دیا جب تک کہ وہ شرح صدر، اطمینان نفس، ظاہری اور باطنی اطاعت کے ساتھ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کر لیں۔ پس آپ کو حکم تسلیم کرنا اسلام کے مقام میں ہے۔ اس تحکیم میں تنگی محسوس نہ کرنا، ایمان کے مقام میں ہے۔ اور آپ کے فیصلے پر تسلیم و رضا احسان کے مقام میں ہے۔
جس کسی نے ان مراتب کو مکمل کر لیا اس نے دین کے تمام مراتب کی تکمیل کر لی۔ اور جس نے اس کا التزام کیے بغیر اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ کافر ہے اور جس نے التزام کرنے کے باوجود اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ دیگر گناہ گاروں کی مانند ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أقسم تعالى بنفسِهِ الكريمة أنَّهم لا يؤمنون حتَّى يحكِّموا رسولَهُ فيما شَجَرَ بينَهم؛ أي: في كل شيء يحصُلُ فيه اختلافٌ؛ بخلاف مسائل الإجماع؛ فإنَّها لا تكون إلاَّ مستندةً للكتاب والسنَّة، ثم لا يكفي هذا التحكيم حتى ينتفي الحرجُ من قلوبِهِم والضيقُ. وكونُهم يحكِّمونه على وجه الإغماض، ثم لا يكفي هذا التحكيم حتى يسلِّموا لحكمِهِ تسليماً بانشراح صدرٍ وطمأنينةِ نفس وانقيادٍ بالظاهر والباطن؛ فالتحكيم في مقام الإسلام، وانتفاء الحرج في مقام الإيمان، والتسليم في مقام الإحسان؛ فمَن استكمل هذه المراتبَ وكمَّلها؛ فقد استكمل مراتبَ الدِّينِ كلَّها، فمَن ترك هذا التحكيم المذكورَ غير ملتزم له؛ فهو كافر، ومَن تركه مع التزامه؛ فله حكمُ أمثالِهِ من العاصين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔