پھر کیسے گزرتی ہے اس وقت جب انھیں کوئی مصیبت اس کی وجہ سے پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا، پھر تیرے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہم نے تو بھلائی اور آپس میں ملانے کے سوا کچھ نہیں چاہا تھا۔
En
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعﺚ کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرمایا ﴿ فَكَـیْفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤاَصَابَتْهُمْمُّصِیْبَةٌۢبِمَاقَدَّمَتْاَیْدِیْهِمْ ﴾”جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے“ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّجَآءُوْكَ ﴾”پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔“ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں ﴿ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗبِاللّٰهِاِنْاَرَدْنَاۤاِلَّاۤاِحْسَانًاوَّتَوْفِیْقًا ﴾”اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔“ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنْاَحْسَنُمِنَاللّٰهِحُكْمًالِّقَوْمٍیُّوْقِنُوْنَ﴾ (المائدۃ: 5؍50) ”جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكيف} يكونُ حال هؤلاء الضالِّين {إذا أصابتهم مصيبةٌ بما قدَّمت أيديهم} من المعاصي، ومنها تحكيمُ الطَّاغوت، {ثم جاؤوك} متعذرين لما صَدَرَ منهم، ويقولون: {إن أردْنا إلَّا إحساناً وتوفيقاً}؛ أي: ما قصدنا في ذلك إلاَّ الإحسان إلى المتخاصمين والتوفيقَ بينهم، وهم كَذَبَةٌ في ذلك؛ فإن الإحسان كل الإحسان تحكيم الله ورسوله، ومَنْ أحسنُ من الله حكماً لقوم يوقنون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔