کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گمان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا۔ چاہتے یہ ہیں کہ آپس کے فیصلے غیراللہ کی طرف لے جائیں، حالانکہ انھیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کا انکار کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انھیں گمراہ کر دے، بہت دور گمراہ کرنا۔
En
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے
کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں حاﻻنکہ انہین حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِیْنَیَزْعُمُوْنَاَنَّهُمْاٰمَنُوْا ﴾”جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔“ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ یُرِیْدُوْنَاَنْیَّتَحَاكَمُوْۤا۠اِلَىالطَّاغُ٘وْتِ ﴾”وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔“ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدْاُمِرُوْۤااَنْیَّكْ٘فُ٘رُوْابِهٖ ﴾”انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔“ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَیُرِیْدُالشَّ٘یْطٰ٘نُاَنْیُّضِلَّهُمْضَلٰ٘لًۢابَعِیْدًا ﴾”اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔“ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يُعجِّب تعالى عبادَه من حالة المنافقين الذين يزعُمون أنَّهم مؤمنون بما جاء به الرسولُ وبما قبلَه، ومع هذا {يُريدون أن يتحاكموا إلى الطَّاغوت}، وهو كلُّ مَن حَكَمَ بغير شرع الله؛ فهو طاغوتٌ، والحالُ أنَّهم {قد أُمِروا أن يكفُروا به}؛ فكيف يجتمع هذا والإيمان؛ فإنَّ الإيمان يقتضي الانقيادَ لشرع الله وتحكيمِهِ في كل أمر من الأمور؛ فَمنْ زَعَمَ أنه مؤمنٌ واختار حكم الطاغوت على حكم الله؛ فهو كاذبٌ في ذلك، وهذا من إضلال الشيطان إيَّاهم، ولهذا قال: {ويُريد الشيطانُ أنْ يُضلَّهم ضلالاً بعيداً} عن الحقِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔