تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 50

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَ کَفٰی بِہٖۤ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۰﴾
دیکھ وہ اللہ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں اور صریح گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔ En
دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے
En
دیکھو یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں اور یہ (حرکت) صریح گناه ہونے کے لئے کافی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿ اُنْ٘ظُ٘رْؔ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ دیکھو یہ لوگ کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں یعنی انھوں نے اپنے نفوس کی پاکیزگی کا دعویٰ کر کے اللہ تعالی پر افتراء پردازی کی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالی پر سب سے بڑا بہتان ہے اور ان کے تزکیہ نفوس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں ان کا موقف حق اور مسلمانوں کا موقف باطل ہے۔ اور یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ حق کو باطل اور باطل کو حق بنانا حقائق کو بدلنے کے مترادف ہے۔ بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ وَكَ٘فٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا اور یہ (حرکت) صریح گناہ ہونے کے لیے کافی ہے یعنی یہ ظاہر اور کھلا گناہ ہے جو سخت عقوبت اور دردناک عذاب کا موجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى: {انظر كيف يفترونَ على الله الكذب}؛ أي: بتزكيتهم أنفسهم؛ لأنَّ هذا من أعظم الافتراء على الله؛ لأنَّ مضمون تزكيتِهِم لأنفسهم الإخبارُ بأنَّ الله جَعَلَ ما هم عليه حَقًّا وما عليه المؤمنون المسلمون باطلاً، وهذا أعظم الكذب وقلبِ الحقائق بجعل الحقِّ باطلاً والباطل حقًّا، ولهذا قال: {وكفى به إثماً مبيناً}؛ أي: ظاهراً بَيِّناً موجباً للعقوبة البليغة والعذاب الأليم.