اور ان پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے اور اس میں سے خرچ کرتے جو انھیں اللہ نے دیا ہے اور اللہ ہمیشہ سے انھیں خوب جاننے والا ہے۔
En
اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے
بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻتے اور اللہ تعالیٰ نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے، اللہ تعالیٰ انہیں خوب جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ان کے لیے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سر نہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَؔكَانَاللّٰهُبِهِمْعَلِیْمًا ﴾”اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أيُّ شيء عليهم وأيُّ حرج ومشَّقة تلحقُهم لو حَصَلَ منهم الإيمانُ بالله الذي هو الإخلاص وأنفقوا من أموالِهِم التي رَزَقَهم الله وأنعم بها عليهم، فجمعوا بين الإخلاص والإنفاق، ولما كان الإخلاص سرًّا بين العبد وبين ربِّه لا يطَّلع عليه إلا الله؛ أخبر تعالى بعلمِهِ بجميع الأحوال، فقال: {وكان الله بهم عليماً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔