تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 28

یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (بوجھ) ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ En
خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے
En
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کر دے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اوامر و نواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمھارے لیے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لیے انھیں مباح کر دیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لیے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے، اس کا عزم و ارادہ کمزور ہے اور ایمان و صبر کمزور ہے۔ پس ان احوال میں مناسب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ ان احکام میں تخفیف کر دے جن کی بندہ اپنی کمزوری کی وجہ سے تعمیل سے قاصر ہے اس کا ایمان، صبر اور قوت جن کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يريدُ الله أن يخفِّفَ عنكم}؛ أي: بسهولة ما أمركم به وما نهاكم عنه، ثم مع حصول المشقة في بعض الشرائع أباح لكم ما تقتضيه حاجتكم كالميتة والدم ونحوهما للمضطر وكتزوج الأمة للحر بتلك الشروط السابقة وذلك لرحمته التامة وإحسانه الشامل وعلمه وحكمته بضعف الإنسان من جميع الوجوه، ضعف البنية وضعف الإرادة وضعف العزيمة وضعف الإيمان وضعف الصبر فناسب ذلك أن يخفف الله عنه ما يضعف عنه، وما لا يطيقه إيمانه وصبره وقوته.