تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 175

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اعۡتَصَمُوۡا بِہٖ فَسَیُدۡخِلُہُمۡ فِیۡ رَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلَیۡہِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿۱۷۵﴾ؕ
پھر جو لوگ تو اللہ پر ایمان لائے اور اسے مضبوطی سے تھام لیا تو عنقریب وہ انھیں اپنی خاص رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انھیں اپنی طرف سیدھے راستے کی ہدایت دے گا۔ En
پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا۔ اور اپنی طرف (پہچنے کا) سیدھا رستہ دکھائے گا
En
پس جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور اسے مضبوط پکڑ لیا، انہیں تو وه عنقریب اپنی رحمت اور فضل میں لے لے گا اور انہیں اپنی طرف کی راه راست دکھا دے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں:
(۱) ﴿فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔ ﴿وَاعْتَصَمُوْا بِهٖ اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَسَیُدْخِلُهُمْ۠ فِیْ رَحْمَةٍ مِّؔنْهُ وَفَضْلٍ ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں) میں داخل کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انھیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا ﴿وَّیَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں علم و عمل کی توفیق اور انھیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔
(۲) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انھوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جا پڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن انقسم الناسُ بحسب الإيمان بالقرآن والانتفاع به قسمين: {فأمَّا الذين آمنوا بالله}؛ أي: اعترفوا بوجودِهِ واتِّصافه بكلِّ وصفٍ كامل وتنزيهه من كلِّ نقص وعيبٍ، {واعتَصَموا به}؛ أي: لجؤوا إلى الله واعتمدوا عليه وتبرَّؤوا من حَوْلِهم وقوَّتهم واستعانوا بربِّهم، {فسيُدْخِلُهم في رحمةٍ منه وفضل}؛ أي: فسيتغمَّدهم بالرحمة الخاصَّة فيوفِّقهم للخيرات ويجزِلُ لهم المثوبات ويدفعُ عنهم البليَّات والمكروهات. {ويهديهم إليه صراطاً مستقيماً}؛ أي: يوفِّقهم للعلم والعمل؛ معرفة الحقِّ والعمل به؛ أي: ومن لم يؤمن بالله، ويعتَصِمْ به، ويتمسَّك بكتابِهِ؛ منعهم من رحمتِهِ، وحرمهم من فضلِهِ، وخلَّى بينهم وبين أنفسِهِم، فلم يَهْتَدوا، بل ضلُّوا ضلالاً مبيناً؛ عقوبةً لهم على تركِهِم الإيمان، فحصلتْ لهم الخيبةُ والحرمانُ. نسأله تعالى العفو والعافية والمعافاة.