تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 167

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۶۷﴾
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا یقینا وہ گمراہ ہوگئے، بہت دور گمراہ ہونا۔ En
جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑے
En
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راه سے اوروں کو روکا وه یقیناً گمراہی میں دور نکل گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰ٘لًۢا بَعِیْدًا وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما أخبر عن رسالة الرُّسل صلوات الله وسلامه عليهم، وأخبر برسالة خاتمهم محمدٍ، وشَهِدَ بها وشَهِدَتْ ملائكته؛ لَزِمَ من ذلك ثبوت الأمر المقرَّر والمشهود به، فوجب تصديقُهم والإيمان بهم واتِّباعهم، ثم توعَّد من كفر بهم، فقال: {إنَّ الذين كفروا وصَدُّوا عن سبيل الله}؛ أي: جمعوا بين الكفر بأنفسهم وصدِّهم الناس عن سبيل الله، وهؤلاء [هم] أئمة الكفر ودُعاة الضَّلال، {قد ضَلُّوا ضلالاً بعيداً}، وأي ضلال أعظم من ضلال من ضَلَّ بنفسه وأضلَّ غيره؛ فباء بالإثمين ورجع بالخسارتين وفاتته الهدايتان؟!