ایسے رسول جو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے، تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہ جائے اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
En
(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے
ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے۔ اللہ تعالی بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں ... تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ: ﴿مَاجَآءَنَامِنْۢبَشِیْرٍوَّلَانَذِیْرٍ١ٞفَقَدْجَآءَؔكُمْبَشِیْرٌوَّنَذِیْرٌ﴾ (المآئدہ: 5؍19) ”ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمھارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے۔“
اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں .... تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔
اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأنَّ الله أرسلهم مبشِّرين لمن أطاع الله واتَّبعهم بالسعادة الدُّنيويَّة والأخرويَّة، ومنذرين مَن عصى الله وخالفهم بشقاوة الدَّارين؛ {لئلاَّ يكونَ للناس على الله حجَّةٌ بعد الرسل}، فيقولوا ما جاءنا من بشيرٍ ولا نذيرٍ، قل: قد جاءكم بشير ونذيرٌ، فلم يبق للخلق على الله حجة؛ لإرساله الرسل تترى؛ يبيِّنون لهم أمر دينهم ومراضي ربهم ومساخِطَه وطرقَ الجنة وطرق النار؛ فمن كَفَرَ منهم بعد ذلك، فلا يلومنَّ إلا نفسه، وهذا من كمال عزَّته تعالى وحكمتِهِ؛ أن أرسل إليهم الرسل وأنزل عليهم الكتب، وذلك أيضاً من فضله وإحسانه؛ حيث كان الناس مضطرِّين إلى الأنبياء أعظم ضرورةٍ تقدَّر، فأزال هذا الاضطرار؛ فله الحمد والشكر، ونسأله كما ابتدأ علينا نعمته بإرسالهم أن يتمَّها بالتوفيق لسلوك طريقهم؛ إنَّه جوادٌ كريمٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔