تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 159

وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا ﴿۱۵۹﴾ۚ
اور اہل کتاب میں کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔ En
اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے
En
اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ ﻻچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَ٘نَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ ﴿ قَبْلَ مَوْتِهٖ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟
اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبْلَ مَوْتِهٖمیں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیح علیہ السلام کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیح علیہ السلام قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته}: يحتمل أن الضمير هنا في قوله قبل موته يعودُ إلى أهل الكتاب، فيكون على هذا كلُّ كتابي يحضُرُه الموت ويعاين الأمر حقيقة؛ فإنه يؤمن بعيسى عليه السلام، ولكنه إيمان لا ينفع؛ إيمان اضطرار، فيكون مضمون هذا التهديد لهم والوعيد أن لا يستمرُّوا على هذه الحال التي سيندمون عليها قبل مماتهم؛ فكيف يكون حالهم يوم حشرهم وقيامهم؟! ويحتمل أن الضمير في قوله: {قبل موته}: راجعٌ إلى عيسى عليه السلام، فيكون المعنى: وما من أحدٍ من أهل الكتاب إلا ليؤمننَّ بالمسيح عليه السلام قبل موت المسيح، وذلك يكون عند اقتراب السَّاعة وظهور علاماتها الكبار؛ فإنها تكاثرت الأحاديث الصحيحة في نزوله عليه السلام في آخر هذه الأمة؛ يقتُلُ الدجَّال، ويضعُ الجِزْية، ويؤمنُ به أهل الكتاب مع المؤمنين {ويوم القيامة}: يكون عيسى عليهم شهيداً يشهد عليهم بأعمالهم وهل هي موافقةٌ لشرع الله أم لا؟ وحينئذٍ لا يشهد إلاَّ ببطلان كلِّ ما هم عليه مما هو مخالف لشريعة القرآن، ولما دعاهم إليه محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - عَلِمْنا بذلك لعِلْمنا بكمال عدالة المسيح عليه السلام وصدقِهِ، وأنَّه لا يشهدُ إلاَّ بالحقِّ، إلاَّ أنَّ ما جاء به محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - هو الحقُّ وما عداه فهو ضلالٌ وباطلٌ.