تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 150

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾ۙ
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کریں۔ En
جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں
En
جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔
(۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ
(۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔
رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں۔
پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّ٘لْ٘كٰفِرِیْنَ (البقرۃ: 2؍98) جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔
اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هنا قِسْمان قد وَضَحا لكلِّ أحد: مؤمن بالله وبرسله كلِّهم وكتبه، وكافرٌ بذلك كلِّه. وبقي قسم ثالثٌ: وهو الذي يزعم أنه يؤمن ببعض الرسل دون بعض، وأنَّ هذا سبيلٌ ينجيه من عذاب الله، إن هذا إلاَّ مجرَّد أماني؛ فإنَّ هؤلاء يريدون التفريق بين الله وبين رسله؛ فإنَّ من تولَّى الله حقيقة؛ تولَّى جميع رسله؛ لأن ذلك من تمام تولِّيه، ومن عادى أحداً من رسله؛ فقد عادى الله وعادى جميع رسله؛ كما قال تعالى: {مَن كان عَدُوًّا لله ... } الآيات، وكذلك من كفر برسول؛ فقد كفر بجميع الرسل، بل بالرسول الذي يزعم أنه به مؤمن.