اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو انھیں گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے۔
En
مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے
تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواه طلب کرو، اگر وه گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کردے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکالے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی عورتیں ﴿ وَالّٰتِیْیَ٘اْتِیْنَالْفَاحِشَةَ ﴾”جو زنا کا ارتکاب کرتی ہیں“ اللہ تعالیٰ نے زنا کو اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے فاحشہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ﴿ فَاسْتَشْهِدُوْا۠عَ٘لَ٘یْهِنَّاَرْبَعَةًمِّؔنْكُمْ ﴾”اپنے میں سے چار اہل ایمان عادل مردوں کو گواہ بنا لو“﴿ فَاِنْشَهِدُوْافَاَمْسِكُوْهُنَّفِیالْبُیُوْتِ ﴾”اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں محبوس کر دو“ اور باہر جانے سے روک دو جو شک و شبہ کا موجب ہے۔ نیز گھر میں محبوس کر دینا ایک قسم کی سزا بھی ہے ﴿حَتّٰىیَتَوَفّٰ٘هُنَّالْ٘مَوْتُ ﴾”یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے“ یعنی یہ محبوس رکھنے کی انتہا ہے ﴿ اَوْیَجْعَلَاللّٰهُلَ٘هُنَّسَبِیْلًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں گھروں میں محبوس کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ مقرر فرما دے۔
یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں بلکہ یہ تو اس وقت تک کے لیے غایت مقرر ہے (جب تک اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی اور راستہ نہیں نکال دیتا) اسلام کی ابتدا میں یہی طریقہ رائج رہا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا متبادل حکم نازل نہیں فرما دیا۔ اور وہ ہے شادی شدہ زانی اور زانیہ کو رجم کرنا اور غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگانا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: النساء {اللاتي يأتين الفاحشة}؛ أي: الزنا، فوصفها بالفاحشة لشناعتها وقبحها. {فاستشهدوا عليهن أربعة منكم}؛ أي: من رجالكم المؤمنين العدول. {فإن شهدوا فأمسكوهنَّ في البيوت}؛ أي: احبسوهن عن الخروج الموجب للريبة، وأيضاً؛ فإن الحبس من جملة العقوبات. {حتَّى يتوفاهنَّ الموت}؛ أي: هذا منتهى الحبس. {أو يجعلَ الله لهن سبيلاً}؛ أي: طريقاً غير الحبس في البيوت.
فهذه الآية ليست منسوخة؛ فإنَّما هي مُغَيَّاة إلى ذلك الوقت، فكان الأمر في أول الإسلام كذلك، حتى جعل الله لهن سبيلاً، وهو رجم المحصن وجلد غير المحصن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔