بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر وہ کفر میں بڑھ گئے، اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں بخش دے اور نہ یہ کہ انھیں کسی راستے کی ہدایت دے۔
En
جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا
جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان ﻻکر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے، اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راه ہدایت سمجھائے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جو کوئی ایمان لانے کے بعد بتکرار کفر کرتا رہا، ہدایت کا راستہ اختیار کیا، پھر گمراہ ہو گیا پھر ایمان لایا۔ پھر اندھا ہو گیا پھر ایمان لے آیا پھر کفر کیا اور اپنے کفر پر قائم رہا بلکہ اپنے کفر میں بڑھتا رہا۔ تو وہ توفیق اور راہ راست سے بہت دور اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے بہت بعید ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مغفرت کے لیے سب سے بڑا مانع ہے۔ اس لیے کہ اس کا کفر اس کے لیے سزا اور اس کی طبیعت بن جاتا ہے جو کبھی زائل نہیں ہوتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ فَلَمَّازَاغُوْۤااَزَاغَاللّٰهُقُلُوْبَهُمْ ﴾ (الصف: 61؍5) ”جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“ اور فرمایا: ﴿ وَنُقَلِّبُاَفْــِٕدَتَهُمْوَاَبْصَارَهُمْكَمَالَمْیُؤْمِنُوْابِهٖۤاَوَّلَمَرَّةٍ ﴾ (الانعام: 6؍110) ”ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے اور جس طرح وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے)۔“
آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر وہ اپنے کفر میں بڑھتے نہ چلے جائیں بلکہ وہ ایمان کی طرف لوٹ آئیں اور کفر کے رویے کو ترک کر دیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا خواہ بار بار ان سے ارتداد کا ارتکاب ہوا ہو اور جب کفر کے مقابلے میں یہ حکم ہے تو دیگر گناہ جو کفر سے کم تر ہیں وہ بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ اگر بندے سے ان گناہوں کا تکرار ہو اور وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ ان کے یہ گناہ بخش دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: من تكرَّر منه الكفر بعد الإيمان؛ فاهتدى ثم ضلَّ، وأبصر ثم عمي، وآمن ثم كفر، واستمرَّ على كفره وازداد منه؛ فإنه بعيد من التوفيق والهداية لأقوم الطريق، وبعيدٌ من المغفرة لكونه أتى بأعظم مانع يمنعه من حصولها؛ فإنَّ كفره يكون عقوبةً وطبعاً لا يزول؛ كما قال تعالى: {فلما زاغوا أزاغ الله قلوبَهم}، {ونقلِّب أفئِدَتَهم وأبصارَهم كما لم يؤمنوا به أوَّلَ مرةٍ}.
ودلَّت الآية أنَّهم إن لم يزدادوا كفراً بل رجعوا إلى الإيمان، وتركوا ما هم عليه من الكفران؛ فإن الله يغفر لهم، ولو تكرَّرت منهم الردَّة، وإذا كان هذا الحكم في الكفر؛ فغيرُهُ من المعاصي التي [دونه] من باب أولى؛ أنَّ العبد لو تكررت منه ثم عاد إلى التوبة؛ عاد الله له بالمغفرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔