تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی وہ (غَنِيٌّحَمِیْدٌ) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ ﴿ اِنْیَّشَاْیُذْهِبْكُمْاَیُّهَاالنَّاسُوَیَ٘اْتِبِاٰخَرِیْنَ ﴾”اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمھاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لیے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: هو الغنيُّ الحميد الذي له القدرة الكاملة والمشيئة النافذة فيكم. {إن يشأ يُذْهِبْكم أيُّها الناس ويأت بآخرين}: غيرِكم هم أطوع لله منكم وخيرٌ منكم. وفي هذا تهديدٌ للناس على إقامتهم على كفرهم وإعراضِهم عن ربِّهم؛ فإنَّ الله لا يعبأ بهم شيئاً إن لم يطيعوه، ولكنَّه يُمْهِلُ ويملي ولا يُهْمِلُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔