تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 133

اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ اَیُّہَا النَّاسُ وَ یَاۡتِ بِاٰخَرِیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیۡرًا ﴿۱۳۳﴾
اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اے لوگو! اور کچھ دوسروں کو لے آئے اور اللہ ہمیشہ سے اس پر پوری طرح قادر ہے۔ En
لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے
En
اگر اسے منظور ہو تو اے لوگو! وه تم سب کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے، اللہ تعالیٰ اس پرپوری قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ (غَنِيٌّ حَمِیْدٌ) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ ﴿ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَیَ٘اْتِ بِاٰخَرِیْنَ اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمھاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لیے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: هو الغنيُّ الحميد الذي له القدرة الكاملة والمشيئة النافذة فيكم. {إن يشأ يُذْهِبْكم أيُّها الناس ويأت بآخرين}: غيرِكم هم أطوع لله منكم وخيرٌ منكم. وفي هذا تهديدٌ للناس على إقامتهم على كفرهم وإعراضِهم عن ربِّهم؛ فإنَّ الله لا يعبأ بهم شيئاً إن لم يطيعوه، ولكنَّه يُمْهِلُ ويملي ولا يُهْمِلُ.