تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 130

وَ اِنۡ یَّتَفَرَّقَا یُغۡنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیۡمًا ﴿۱۳۰﴾
اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے غنی کر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے وسعت والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے
En
اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

میاں بیوی کے درمیان تیسری حالت یہ ہے کہ جب اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دونوں کے درمیان علیحدگی میں کوئی حرج نہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا اگر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔ یعنی اگر دونوں طلاق، فسخ یا خلع کے ذریعے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں ﴿یُ٘غْ٘نِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل و کرم اور لامحدود احسان کے ذریعے سے ایک دوسرے سے بے نیاز کر دے گا شوہر کو کسی دوسری بیوی کے ذریعے سے پہلی بیوی سے اور بیوی کو اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ اگر بیوی کا اپنے شوہر کے رزق میں سے حصہ ختم ہو گیا ہے تو اس کا رزق اس ہستی کے ذمے ہے جو تمام مخلوق کو رزق عطا کرتی ہے اور ان کے مصالح کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر شوہر عطا کر دے۔ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَؔكِیْمًا اور اللہ بڑی کشائش والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ فضل و کرم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے۔ جہاں جہاں اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے، وہاں تک اس کی رحمت سایہ کناں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ حَؔكِیْمًا وہ حکمت والا ہے اگر کسی کو عطا کرتا ہے تو حکمت کی بنیاد پر اور محروم کرتا ہے تو حکمت ہی کی بنیاد پر۔ جب اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ کسی بندے کو کسی سبب کی بنا پر اپنے فضل و احسان سے محروم کرے جس کا وہ مستحق نہیں، تو اپنے عدل و حکمت سے اسے محروم کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الحالة الثالثةُ بين الزوجين إذا تعذَّر الاتِّفاق؛ فإنه لا بأس بالفراق، فقال: {وإن يتفرَّقا}؛ أي: بطلاق أو فسخ أو خلع أو غير ذلك، {يُغْنِ الله كلاًّ}: من الزوجين {من سَعَتِهِ}؛ أي: من فضله وإحسانه الواسع الشامل، فيغني الزوج بزوجة خيرٍ له منها، ويغنيها من فضله، وإن انقطع نصيبها من زوجها؛ فإن رزقها على المتكفِّل بأرزاق جميع الخَلْق، القائم بمصالحهم، ولعلَّ الله يرزُقها زوجاً خيراً منه. {وكان الله واسعاً}؛ أي: كثير الفضل واسع الرحمة، وصلتْ رحمتُه وإحسانُه إلى حيث وصل إليه علمُه، ولكنَّه مع ذلك {حكيماً}؛ أي: يعطي بحكمته ويمنع لحكمتِهِ؛ فإذا اقتضتْ حكمتُهُ منع بعض عبادِهِ من إحسانه بسبب من العبد لا يستحقُّ معه الإحسان؛ حَرَمَهُ عدلاً وحكمة.