تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے خبر دی ہے کہ ﴿ مَافِیالسَّمٰوٰتِوَمَافِیالْاَرْضِ﴾”جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب اسی کا ہے)۔“ یعنی ہر چیز اس کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے غلام ہیں۔ پس تمام لوگ غلام اور وہ اکیلا ان کا مالک اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ اس کے علم نے تمام معلومات، اس کی بصر نے تمام مبصرات اور اس کی سماعت نے تمام مسموعات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس کی مشیت اور قدرت تمام موجودات پر نافذ اور اس کی رحمت زمین و آسمان کی تمام مخلوق پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے قہر اور غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام موجودات اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذه الآية الكريمة فيها بيانُ إحاطة الله تعالى بجميع الأشياء، فأخبر أنَّه له {ما في السموات وما في الأرض}؛ أي: الجميع ملكُه وعبيدُه؛ فهم المملوكون وهو المالك المتفرِّد بتدبيرهم، وقد أحاط علمُهُ بجميع المعلومات، وبصرُهُ بجميع المبصَرات وسمعُهُ بجميع المسموعات ونفذتْ مشيئتُه وقدرتُه بجميع الموجودات ووَسِعَتْ رحمتُهُ أهل الأرض والسماوات، وقهر بعزِّه وقهرِهِ كلَّ مخلوقٍ، ودانت له جميعُ الأشياء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔