تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 126

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطًا ﴿۱۲۶﴾٪
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔ En
اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے
En
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے خبر دی ہے کہ ﴿ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب اسی کا ہے)۔ یعنی ہر چیز اس کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے غلام ہیں۔ پس تمام لوگ غلام اور وہ اکیلا ان کا مالک اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ اس کے علم نے تمام معلومات، اس کی بصر نے تمام مبصرات اور اس کی سماعت نے تمام مسموعات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس کی مشیت اور قدرت تمام موجودات پر نافذ اور اس کی رحمت زمین و آسمان کی تمام مخلوق پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے قہر اور غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام موجودات اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه الآية الكريمة فيها بيانُ إحاطة الله تعالى بجميع الأشياء، فأخبر أنَّه له {ما في السموات وما في الأرض}؛ أي: الجميع ملكُه وعبيدُه؛ فهم المملوكون وهو المالك المتفرِّد بتدبيرهم، وقد أحاط علمُهُ بجميع المعلومات، وبصرُهُ بجميع المبصَرات وسمعُهُ بجميع المسموعات ونفذتْ مشيئتُه وقدرتُه بجميع الموجودات ووَسِعَتْ رحمتُهُ أهل الأرض والسماوات، وقهر بعزِّه وقهرِهِ كلَّ مخلوقٍ، ودانت له جميعُ الأشياء.