تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 41

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالۡحَقِّ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿٪۴۱﴾
بلاشبہ ہم نے تجھ پر یہ کتاب لوگوں کے لیے حق کے ساتھ نازل کی ہے، پھر جو سیدھے راستے پر چلا سو اپنی جان کے لیے اور جو گمراہ ہوا تو اسی پر گمراہ ہوگا اور تو ہرگز ان پر کوئی ذمہ دار نہیں۔ En
ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے۔ تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے کے) لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی سے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر) تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو
En
آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راه راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے اور جو گمراه ہوجائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل فرمائی جو اپنی خبر اور اپنے اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے، جو ہدایت کی اصل بنیاد اور ہر اس شخص کے لیے پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر پہنچنا چاہتا ہے۔ نیز اس کتاب کے ذریعے سے تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔
﴿فَ٘مَنِ اهْتَدٰؔى پس جس نے اس کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی اور اس کے احکامات کی پیروی کی ﴿فَلِنَفْسِهٖ تو اس کا فائدہ اسی کی طرف لوٹے گا ﴿وَمَنْ ضَلَّ جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد بھی گمراہ ہوا ﴿فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ﴿وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَؔكِیْلٍ اور آپ ان پر نگران نہیں ہیں کہ آپ ان کے اعمال پر نگاہ رکھیں، ان پر ان کا محاسبہ کریں اور جس کام پر چاہیں ان کو مجبور کریں۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ وہ چیز ان تک پہنچا دیتے ہیں جسے پہنچا دینے کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه أنزل على رسولِهِ الكتابَ المشتمل على الحقِّ في أخباره وأوامره ونواهيه، الذي هو مادَّةُ الهداية وبلاغٌ لمن أراد الوصول إلى الله وإلى دار كرامتِهِ، وأنَّه قامتْ به الحجةُ على العالمين. {فَمَنِ اهْتَدى}: بنورِهِ واتَّبع أوامِرَه؛ فإنَّ نفع ذلك يعودُ إلى نفسه {ومَن ضَلَّ}: بعدما تبيَّن له الهدى {فإنَّما يَضِلُّ عليها}: لا يضرُّ الله شيئاً. {وما أنت عليهم بوكيل}: تحفظُ عليهم أعمالَهم وتحاسِبُهم عليها وتجبِرُهم على ما تشاءُ، وإنَّما أنت مبلغٌ تؤدِّي إليهم ما أمرت به.