تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بد ترین عذاب سے بچے گا (وہ جنتی جیسا ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا چکھو جو تم کمایا کرتے تھے۔
En
بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کیا یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو اپنی گمراہی پرجما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آ پہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے؟ اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے۔ چہرہ تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤ ں جھکڑے ہوئے ہوں گے۔ ﴿وَقِیْلَلِلظّٰلِمِیْنَ ﴾ کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿ذُوْقُوْامَاكُنْتُمْتَكْسِبُوْنَ ﴾”اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أفيستوي هذا الذي هداه اللهُ، ووفَّقه لسلوك الطريق الموصلةِ لدارِ كرامتِهِ كمن كان في الضلال، واستمرَّ على عنادِهِ حتى قَدِمَ القيامة فجاءه العذابُ العظيم فجعلَ يتَّقي بوجهِهِ الذي هو أشرفُ الأعضاء، وأدنى شيءٍ من العذاب يؤثِّرُ فيه، فهو يتَّقي فيه سوء العذاب؛ لأنَّه قد غُلَّتْ يداه ورجلاه؟! {وقيل للظالمين}: أنفسَهم بالكفرِ والمعاصي توبيخاً وتقريعاً: {ذوقوا ما كنتُم تكسِبونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔