تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 22

اَفَمَنۡ شَرَحَ اللّٰہُ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ فَوَیۡلٌ لِّلۡقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۲﴾
تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے (کسی سخت دل کافر جیسا ہو سکتا ہے؟) پس ان کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہیں، یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ En
بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں
En
کیا وه شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نےاسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وه اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اﺛر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو قبول کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے وسعت ہو اور وہ اسلام کے معاملے میں انشراح صدر اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے ساتھ بصیرت کی راہ پر گامزن ہو… اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہو۔ سے یہی مراد ہے… اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ اوصاف سے محروم ہے؟
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُ٘لُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ پس ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہورہے ہیں۔ یعنی ان کے سخت دل اس کی کتاب کو سمجھنے کے لیے نرم ہوتے ہیں نہ اس کی آیات سے نصیحت پکڑتے ہیں اور نہ اس کے ذکر سے اطمینان ہی حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے رب سے روگردانی کر کے غیر کی طرف التفات کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے شدید ہلاکت اور بہت بڑی برائی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہے جو اپنے والی اور سرپرست سے منہ موڑتا ہے جس کی طرف التفات میں ہر قسم کی سعادت ہے، جس کا دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بارے میں پتھر کی مانند سخت ہے اور وہ اس چیز کی طرف متوجہ ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أفيستوى مَنْ شَرَحَ الله صدرَه للإسلام، فاتَّسع لتلقِّي أحكام الله والعمل بها منشرحاً قرير العين على بصيرةٍ من أمره، وهو المرادُ بقولِهِ: {فهو على نورٍ من ربِّهِ}: كمن ليس كذلك؛ بدليل قوله: {فويلٌ للقاسيةِ قلوبُهُم مِنْ ذكرِ الله}؛ أي: لا تلين لكتابه ولا تتذكَّر آياتِهِ ولا تطمئنُّ بذكرِهِ، بل هي معرِضَةٌ عن ربِّها، ملتفتةٌ إلى غيره؛ فهؤلاء لهم الويلُ الشديدُ والشرُّ الكبير. {أولئك في ضلال مبين}: وأيُّ ضلال أعظمُ من ضلال مَنْ أعْرَضَ عن وليِّه، ومَنْ كلُّ السعادة في الإقبال عليه، وقسا قلبُهُ عن ذكرِهِ، وأقبل على كلِّ ما يضرُّه؟!