تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُ٘لْمَاۤاَسْـَٔؔلُكُمْعَلَیْهِ ﴾”کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر“ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنْاَجْرٍوَّمَاۤاَنَامِنَالْ٘مُتَكَلِّفِیْنَ ﴾”کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔“ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما بيَّنَ الرسول للناس الدليلَ، ووضَّح لهم السبيلَ؛ قال الله له: {قل ما أسألُكُم عليه}؛ أي: على دعائي إياكم {من أجرٍ وما أنا من المتكلِّفين}: أدَّعي أمراً ليس لي، وأقفو ما ليس لي به علمٌ، لا أتَّبِعُ إلاَّ ما يُوحى إليَّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔