فرمایا اے ابلیس!تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا؟ کیا تو بڑا بن گیا، یا تھا ہی اونچے لوگوں میں سے ؟
En
خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿یٰۤاِبْلِیْسُمَامَنَعَكَاَنْتَسْجُدَلِمَاخَلَقْتُبِیَدَیَّ ﴾”(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔“ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسْتَكْبَرْتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمْكُنْتَمِنَالْعَالِیْ٘نَ ﴾”یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال اللهُ له موبِّخاً ومعاتباً: {ما مَنَعَكَ أن تسجدَ لما خلقتُ بيديَّ}؛ أي: شرَّفْتُه وكرَّمْتُه واختصصتُه بهذه الخصيصة التي اختصَّ بها عن سائر الخلق، وذلك يقتضي عدم التكبُّر عليه. {أستكبرتَ}: في امتناعِك {أم كنتَ من العالينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔