تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذْقَالَرَبُّكَلِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾”جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:“﴿اِنِّیْخَالِـقٌۢبَشَرًامِّنْطِیْنٍ ﴾”میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔“ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَاسَوَّیْتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخْتُفِیْهِمِنْرُّوْحِیْفَقَعُوْالَهٗسٰؔجِدِیْنَ ﴾”اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ اختصام الملأ الأعلى، فقال: {إذ قال ربُّك للملائكة}: على وجه الإخبارِ، {إنِّي خالقٌ بشراً من طينٍ}؛ أي: مادَّتُه من طين، {فإذا سَوَّيْتُهُ}؛ أي: سويت جسمه وتمَّ، {ونفختُ فيه من روحي فَقَعوا له ساجدينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔