تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 71

اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۱﴾
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بے شک میں تھوڑی سی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ En
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
En
جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا: ﴿اِنِّیْ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰؔجِدِیْنَ اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ اختصام الملأ الأعلى، فقال: {إذ قال ربُّك للملائكة}: على وجه الإخبارِ، {إنِّي خالقٌ بشراً من طينٍ}؛ أي: مادَّتُه من طين، {فإذا سَوَّيْتُهُ}؛ أي: سويت جسمه وتمَّ، {ونفختُ فيه من روحي فَقَعوا له ساجدينَ}.