تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 61

قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا ہٰذَا فَزِدۡہُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِی النَّارِ ﴿۶۱﴾
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! جو اس کو ہمارے آگے لایا ہے پس تو اسے آگ میں دگنا عذاب زیادہ کر ۔ En
وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے
En
وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدْهُ عَذَابً٘ا ضِعْفًا فِی النَّارِ کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لِكُ٘لٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ (الاعراف: 7؍38) سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم دعوا على المغوين لهم: {قالوا ربَّنا مَن قَدَّمَ لنا هذا فَزِدْهُ عذاباً ضِعْفاً في النارِ}. وقال في الآية الأخرى: {قال لِكُلٍّ ضعفٌ ولكن لا تعلمون}.