تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوْارَبَّنَامَنْقَدَّمَلَنَاهٰؔذَافَزِدْهُعَذَابً٘اضِعْفًافِیالنَّارِ ﴾”کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔“ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لِكُ٘لٍّضِعْفٌوَّلٰكِنْلَّاتَعْلَمُوْنَ ﴾ (الاعراف: 7؍38) ”سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم دعوا على المغوين لهم: {قالوا ربَّنا مَن قَدَّمَ لنا هذا فَزِدْهُ عذاباً ضِعْفاً في النارِ}. وقال في الآية الأخرى: {قال لِكُلٍّ ضعفٌ ولكن لا تعلمون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔