تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 28

اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالۡمُفۡسِدِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِیۡنَ کَالۡفُجَّارِ ﴿۲۸﴾
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح کر دیں گے؟ یا کیا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کر دیں گے؟ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے۔ کیا ان کو ہم ان کی طرح کر دیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں۔ یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کر دیں گے
En
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دینگے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ٞ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {أم نجعلُ الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ كالمفسدينَ في الأرض أم نَجْعَلُ المتَّقينَ كالفجَّارِ}: هذا غيرُ لائقٍ بحكمتِنا وحكمِنا.