تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 1

صٓ وَ الۡقُرۡاٰنِ ذِی الذِّکۡرِ ؕ﴿۱﴾
ص۔ اس نصیحت والے قرآن کی قسم! En
ص۔ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
En
ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالْ٘قُ٘رْاٰنِ ذِی الذِّكْرِ ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا بيانٌ من الله تعالى لحال القرآن وحال المكذِّبين به معه ومع من جاء به، فقال: {ص والقرآنِ ذي الذِّكْرِ}؛ أي: ذي القَدْر العظيم والشرف، المذكِّر للعباد كلَّ ما يحتاجون إليه من العلم بأسماء الله وصفاته وأفعاله، ومن العلم بأحكام الله الشرعية، ومن العلم بأحكام المعاد والجزاء؛ فهو مذكِّرٌ لهم في أصول دينهم وفروعه. وهنا لا يُحتاجُ إلى ذِكْرِ المقسَم عليه؛ فإنَّ حقيقة الأمر أنَّ المقسم به وعليه شيءٌ واحدٌ، وهو هذا القرآن الموصوف بهذا الوصف الجليل.