تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 94

فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَیۡہِ یَزِفُّوۡنَ ﴿۹۴﴾
تو وہ دوڑتے ہوئے اس کی طرف آئے۔ En
تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے
En
وه (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ ہوئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنْ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَ٘مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (الانبیاء: 21؍59) ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔ ان سے کہا گیا: ﴿سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُ (الانبیاء: 21/60) ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔ وہ کہتا تھا: ﴿تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ (الانبیاء: 21؍57) اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔ چنانچہ انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا: ﴿ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِیْرُهُمْ هٰؔذَا فَسْـَٔلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ۰۰ فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّـكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ۰۰قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ۠ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْـًٔؔا وَّلَا یَضُرُّكُمْ (الانبیاء: 21؍63-66) بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے:بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے: تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟
﴿قَالَ اس مقام پر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ﴿اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ۰۰تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأقبلوا إليه يزِفُّونَ}؛ أي: يسرعون ويُهْرَعون؛ يريدون أن يوقعوا به بعد ما بحثوا و {قالوا: مَنْ فَعَلَ هذا بآلهتنا إنَّه لمن الظالمين}؟ {وقيل لهم: سمِعْنا فتى يذكُرُهم يُقالُ له: إبراهيمُ}، يقول {تالله لأكيدنَّ أصنامَكُم بعدَ أن تُوَلُّوا مدبِرين}. فوبَّخوه ولاموه، فقال: {بل فَعَلَه كبيرُهم هذا فاسألوهم إن كانوا ينطِقون. فرجَعَوا إلى أنفسِهِم فقالوا إنَّكم أنتم الظالمونَ. ثم نُكِسوا على رؤوسِهِم لقد علمتَ ما هؤلاء ينطِقون. قال أفتعبدُونَ من دون اللهِ ما لا ينفعكم شيئاً ولا يضرُّكم ... } الآية، و {قال} هنا: {أتعبدُونَ ما تَنْحِتونَ}؛ أي: تنحِتونه بأيديكم وتصنعونه؛ فكيف تعبُدونهم وأنتم الذين صنعتُموهم، وتتركون الإخلاصَ لله الذي {خَلَقَكُم وما تعمَلون}؟!