تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 83

وَ اِنَّ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ لَاِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۸۳﴾
اور بے شک اس کے گروہ میں سے یقینا ابراہیم (بھی) ہے۔ En
اور ان ہی کے پیرووں میں ابراہیم تھے
En
اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی نوح علیہ السلام اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

؛ أي: وإنَّ من شيعة نوح عليه السلام ومَنْ هو على طريقتِهِ في النبوَّة والرسالة ودعوة الخلقِ إلى اللَّه وإجابةِ الدُّعاء إبراهيم الخليل عليه السلام. {إذْ جاء ربَّه بقلبٍ سليم}: من الشركِ والشُّبَهِ والشَّهَوات المانعة من تصوُّر الحقِّ والعمل به. وإذا كان قلبُ العبدِ سليماً؛ سَلِمَ من كلِّ شرٍّ، وحصل له كلُّ خيرٍ.