تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ جن لوگوں کو ڈرایا گیا تھا، وہ سب کے سب گمراہ نہ تھے، ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو اہل ایمان تھے، جن کا دین اللہ تعالیٰ کے لیے خالص تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب اور ہلاکت سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِلَّاعِبَادَاللّٰهِالْمُخْلَصِیْنَ ﴾”سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے“ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص کا حامل بنایا اور ان کو ان کے اخلاص کے سبب سے، اپنی رحمت کے لیے مختص کیا۔ تب ان کا انجام قابل ستائش ہوا،
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كان المُنْذَرون ليسوا كلهم ضالِّين، بل منهم مَنْ آمن وأخلصَ الدين لله؛ استثناهُمُ الله من الهلاك، فقال: {إلاَّ عبادَ الله المخلَصين}؛ أي: الذين أخْلَصَهم الله وخَصَّهم برحمتِهِ لإخلاصهم؛ فإنَّ عواقِبَهم صارت حميدةً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔