تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اِنَّاجَعَلْنٰهَافِتْنَةًلِّلظّٰلِمِیْنَ ﴾ ”زقوم کا درخت ہم نے اس کو ”فتنہ“ بنارکھا ہے۔“ یعنی عذاب اور سزا ﴿لِّلظّٰلِمِیْنَ ﴾”واسطے ظالموں کے۔“ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿اِنَّهَاشَجَرَةٌتَخْرُجُفِیْۤاَصْلِالْجَحِیْمِ﴾”بے شک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔“ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے، پودا اگنے کی بدترین جگہ پودے کی خساست اور اس کے بدترین اوصاف پر دلالت کرتی ہے، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس جگہ کا ذکر کر کے جہاں یہ پودا اگتا ہے اور اس کے پھل کا وصف بیان کر کے ہمیں اس کی برائی سے آگاہ فرمایا ہے۔ بے شک اس کا پھل ﴿رُءُ٘وْسُالشَّیٰطِیْنِ ﴾”شیطانوں کے سر“ کی مانند ہے۔ پس اس کے ذائقے کے بارے میں مت پوچھ کہ یہ جہنمیوں کے پیٹ میں جا کر کیا کرے گا۔ وہ اس سے بچ سکیں گے نہ جان چھڑا سکیں گے، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمْلَاٰكِلُوْنَمِنْهَافَمَالِــُٔـوْنَمِنْهَاالْبُطُوْنَ﴾”پس وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔“ یہ اہل جہنم کا کھانا ہے اور کتنا بدترین کھانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنا جعلناها فتنةً}؛ أي: عذاباً ونكالاً {للظَّالمينَ}: أنفسهم بالكفر والمعاصي. {إنها شجرةٌ تخرجُ في أصل الجحيم}؛ أي: وسطه؛ فهذا مخرجُها ومعدِنُها؛ شرُّ المعادن وأسوؤها، وشرُّ المغرس يدل على شرِّ الغراس وخسَّته، ولهذا نبَّهنا الله على شرِّها بما ذكر أين تنبُت به وبما ذكر من صفة ثمرتها، وأنها كرؤوس الشياطينِ؛ فلا تسألْ بعد هذا عن طعمها وما تفعلُ في أجوافهم وبطونهم. وليس لهم عنها مندوحةٌ ولا مَعْدِلٌ ، ولهذا قال: {فإنَّهم لآكلونَ منها فمالِئونَ منها البطونَ}: فهذا طعامُ أهل النارِ؛ فبئس الطعامُ طعامُهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔