تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 61

لِمِثۡلِ ہٰذَا فَلۡیَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اس جیسی (کامیابی) ہی کے لیے پس لازم ہے کہ عمل کرنے والے عمل کریں۔ En
ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں
En
ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لِـمِثْلِ هٰؔذَا فَلْ٘یَعْمَلِ الْ٘عٰمِلُوْنَ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ یہی مطلوب و مقصود سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے زندگی کے بہترین سانس صرف کیے جائیں اور سب سے زیادہ اس لائق ہے کہ عقل مند اصحاب معرفت اس کے لیے جدوجہد کریں۔ نہایت افسوس اور حسرت کا مقام ہے کہ دور اندیش آدمی کے اوقات میں سے کوئی ایسا وقت گزرے جس میں وہ ایسے عمل میں مشغول نہ ہو جو اسے اس منزل مقصود تک پہنچاتا ہے، تب اس کا کیا حال ہے جو اپنے گناہوں کے ذریعے سے ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لمثل هذا فليعمل العاملون}: فهو أحقُّ ما أُنْفِقَتْ فيه نفائسُ الأنفاس، وأولى ما شَمَّرَ إليه العارفون الأكياس، والحسرةُ كلُّ الحسرة أن يمضي على الحازم وقتٌ من أوقاته وهو غير مشتغل بالعمل الذي يقرِّبُ لهذه الدار؛ فكيف إذا كان يسير بخطاياه إلى دار البوار؟!