تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 22

اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾
اکٹھا کرو ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا اور ان کے جوڑوں کو اور جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ En
جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو
En
ﻇالموں کو اور ان کے ہمراہیوں کو اور (جن) جن کی وه اللہ کے علاوه پرستش کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب قیامت کے روز وہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر کیے جائیں گے اور اس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کی وہ تکذیب کیا کرتے اور اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے، تو ان کو جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جائے گا: ﴿اُحْشُ٘رُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا جو لوگ ظلم کرتے تھے انھیں جمع کرو۔ یعنی جنھوں نے کفر، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿وَاَزْوَاجَهُمْ اور ان کے ہم جنسوں کو۔ یعنی جن کا عمل ان کے عمل کی جنس سے ہے، ہر شخص کو اس شخص کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا جو عمل میں اس کا ہم جنس تھا۔ ﴿وَمَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ۰۰ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن بتوں اور خود ساختہ ہمسروں کی عبادت کیا کرتے تھے اور جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا، جمع کیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ ان سب کو اکٹھا کرو ﴿فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْؔجَحِیْمِ اور سختی کے ساتھ ان کو ہانک کر جہنم میں لے جاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إذا حضروا يوم القيامةِ وعاينوا ما به يكذبون ورأوا ما به يستسخرون؛ يُؤْمَرُ بهم إلى النارِ التي بها يكذبون، فيقال: {احشُروا الذين ظلموا}: أنفسَهم بالكفرِ والشركِ والمعاصي {وأزواجَهم}: الذين من جنس عملهم، كلٌّ يُضَمُّ إلى مَنْ يُجانِسُه في العمل، {وما كانوا يَعْبُدون من دونِ الله}: من الأصنام والأندادِ التي زعموها، اجمعوهم جميعاً، واهدوهم {إلى صراطِ الجَحيم}؛ أي: سوقوهم سوقاً عنيفاً إلى جهنم.