تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے مشرکو! تم اور تمھارے خود ساختہ الٰہ کسی کو فتنہ میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو گیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کرنا مقصود ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إنَّكم أيُّها المشركون ومَنْ عَبَدْتُموه مع الله لا تقدِرون أن تَفْتِنوا وتُضِلُّوا أحداً إلاَّ مَنْ قضى الله أنَّه من أهل الجحيم، فَنَفَذَ فيه القضاءُ الإلهيُّ. والمقصودُ من هذا بيانُ عجزِهم وعجزِ آلهتهم عن إضلال أحدٍ، وبيانُ كمال قدرةِ الله تعالى؛ أي: فلا تَطْمَعوا بإضلال عبادِ الله المخلَصين وحزبِه المفلحين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔