تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمَنْنُّ٘عَمِّرْهُ ﴾”اور ہم جس کو بڑی عمر دیتے ہیں۔“ یعنی بنی آدم میں سے ﴿نُنَكِّسْهُفِیالْخَلْقِ ﴾ یعنی وہ اسی حالت کی طرف لوٹ آتا ہے جس سے ابتدا کی تھی، یعنی ضعف عقل اور ضعف قوت کی طرف۔ ﴿اَفَلَایَعْقِلُوْنَ ﴾”کیا وہ سمجھتے نہیں۔“ آدمی ہر لحاظ سے ناقص ہے۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور عقل کا تدارک کریں اور انھیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقولُ تعالى: {ومَن نُعَمِّرْهُ}: من بني آدم {نُنَكِّسْه في الخَلْقِ}؛ أي: يعود إلى الحالة التي ابتدأ منها؛ حالة الضعف؛ ضعف العقل وضعف القوة. {أفلا يعقلونَ}: أنَّ الآدميَّ ناقصٌ من كلِّ وجه، فيتداركوا قوتهم وعقولَهم، فيستَعْمِلونها في طاعة ربِّهم؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔