تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 68

وَ مَنۡ نُّعَمِّرۡہُ نُنَکِّسۡہُ فِی الۡخَلۡقِ ؕ اَفَلَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۸﴾
اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کر دیتے ہیں، تو کیا یہ نہیں سمجھتے۔ En
اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں؟
En
اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَنْ نُّ٘عَمِّرْهُ اور ہم جس کو بڑی عمر دیتے ہیں۔ یعنی بنی آدم میں سے ﴿نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ یعنی وہ اسی حالت کی طرف لوٹ آتا ہے جس سے ابتدا کی تھی، یعنی ضعف عقل اور ضعف قوت کی طرف۔ ﴿اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ کیا وہ سمجھتے نہیں۔ آدمی ہر لحاظ سے ناقص ہے۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور عقل کا تدارک کریں اور انھیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقولُ تعالى: {ومَن نُعَمِّرْهُ}: من بني آدم {نُنَكِّسْه في الخَلْقِ}؛ أي: يعود إلى الحالة التي ابتدأ منها؛ حالة الضعف؛ ضعف العقل وضعف القوة. {أفلا يعقلونَ}: أنَّ الآدميَّ ناقصٌ من كلِّ وجه، فيتداركوا قوتهم وعقولَهم، فيستَعْمِلونها في طاعة ربِّهم؟