تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَوْنَشَآءُلَطَمَسْنَاعَلٰۤىاَعْیُنِهِمْ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسْتَبَقُواالصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰىیُبْصِرُوْنَ ﴾”تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے“ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولو نشاءُ لَطَمَسْنا على أعيُنِهم}: بأن نُذْهِبَ أبصارَهم كما طَمَسْنا على نُطْقِهِم؛ {فاسْتَبَقوا الصراطَ}؛ أي: فبادروا إليه؛ لأنَّه الطريق إلى الوصول إلى الجنة. {فأنَّى يُبْصِرونَ}: وقد طُمِسَتْ أبصارُهم؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔