تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 66

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤی اَعۡیُنِہِمۡ فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۶۶﴾
اور اگر ہم چاہیں تو یقینا ان کی آنکھیں مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو کیسے دیکھیں گے؟ En
اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں۔ پھر یہ رستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے
En
اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں بے نور کر دیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑتے پھرتے لیکن انہیں کیسے دکھائی دیتا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولو نشاءُ لَطَمَسْنا على أعيُنِهم}: بأن نُذْهِبَ أبصارَهم كما طَمَسْنا على نُطْقِهِم؛ {فاسْتَبَقوا الصراطَ}؛ أي: فبادروا إليه؛ لأنَّه الطريق إلى الوصول إلى الجنة. {فأنَّى يُبْصِرونَ}: وقد طُمِسَتْ أبصارُهم؟!