تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 57

لَہُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ وَّ لَہُمۡ مَّا یَدَّعُوۡنَ ﴿ۚۖ۵۷﴾
ان کے لیے اس میں بہت پھل ہے اور ان کے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو وہ طلب کریں گے۔ En
وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا)
En
ان کے لئے جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور بھی جو کچھ وه طلب کریں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ اس میں ان کے لیے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے، مثلاً: انگور، انجیر اور انار وغیرہ۔ ﴿وَّلَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پا لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لهم فيها فاكهةٌ}: كثيرة من جميع أنواع الثمارِ اللذيذة؛ من عنب، وتين، ورمان، وغيرها، {ولهم ما يَدَّعونَ}؛ أي: يطلبون؛ فمهما طلبوه وتمنَّوْه؛ أدْرَكوه.