تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنْتَكُحَسَنَةًیُّضٰعِفْهَاوَیُؤْتِمِنْلَّدُنْهُاَجْرًاعَظِیْمًا﴾ (النساء:4؍40) ”اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ألم يروا كم أهلكنا قبلهم من القرون أنهم إليهم لا يرجعون. وإن كلُّ لمَّا جميعٌ لدينا محضرون}؛ يقول تعالى: ألم يَرَ هؤلاء ويَعْتَبِروا بِمَنْ قبلَهم من القرون المكذِّبة التي أهْلَكَها الله تعالى وأوقَعَ بها عقابَها، وأنَّ جميعَهم قد بادَ وهَلَكَ فلم يرجِعْ إلى الدُّنيا ولنْ يَرْجِعَ إليها، وسيعيدُ الله الجميع خلقاً جديداً، ويبعثُهُم بعد موتِهِم، ويحضُرونَ بين يديهِ تعالى؛ ليحكمَ بينهم بحكمِهِ العدل الذي لا يظلِمُ مثقالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حسنةً يضاعِفْها، ويُؤْتِ من لَدُنْه أجراً عظيماً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔