تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 26

قِیۡلَ ادۡخُلِ الۡجَنَّۃَ ؕ قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
اسے کہا گیا جنت میں داخل ہو جا۔ اس نے کہا اے کاش! میری قوم جان لے۔ En
حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا۔ بولا کاش! میری قوم کو خبر ہو
En
(اس سے) کہا گیا کہ جنت میں چلا جا، کہنے لگا کاش! میری قوم کو بھی علم ہو جاتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِیْلَ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادْخُلِ الْجَنَّةَ جنت میں داخل ہوجا اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا: ﴿یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ بِمَا غَ٘فَرَ لِیْ رَبِّیْ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُؔكْرَمِیْنَ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقتله قومُه لمَّا سَمِعوا منه وراجَعَهم بما راجَعَهم به. {قيل}: له في الحال: {ادْخُلِ الجَنَّةَ}. فقال مخبراً بما وصل إليه من الكرامة على توحيدِهِ وإخلاصِهِ وناصحاً لقومه بعدَ وفاتِهِ كما نَصَحَ لهم في حياته: {يا لَيتَ قَومِي يَعلمُونَ. بمَا غَفَر لي ربِّي}؛ أي: بأي شيءٍ غفر لي فأزال عني أنواع العقوبات، {وجَعَلَني من المُكْرَمينَ}: بأنواع المَثوبات والمسرَّات؛ أي: لو وَصَلَ علمُ ذلك إلى قلوبهم؛ لم يقيموا على شركهم.