تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ”حکم“ اور ”حکمت“ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا قسمٌ من الله تعالى بالقرآن الحكيم الذي وَصْفُهُ الحكمةُ، وهي وضعُ كلِّ شيءٍ موضعَه: وضعُ الأمر والنهي في المحلِّ اللائق بهما، ووضع الجزاء بالخير والشرِّ في محلِّهما اللائق بهما؛ فأحكامُهُ الشرعيَّةُ والجزائيةُ كلُّها مشتملةٌ على غاية الحكمة. ومن حكمة هذا القرآن أنه يجمع بين ذِكْر الحُكْم وحِكْمته، فينبِّه العقول على المناسبات والأوصاف المقتضية لترتيب الحكم عليها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔